19 اگست 2026 - 17:01
علامہ ساجد نقوی: ظلم نہ رکا تو امن، انسانیت اور برداشت صرف کتابی الفاظ بن کر رہ جائیں گے

چیئرمین شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عالمی یومِ انسان دوستی کے موقع پر دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ظلم و جبر کا سلسلہ نہ روکا گیا تو امن، انسانیت اور رواداری محض کاغذ پر لکھی اصطلاحات بن کر رہ جائیں گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، علامہ سید ساجد علی نقوی نے 19 اگست کو عالمی یومِ انسان دوستی کے موقع پر اپنے پیغام میں دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت آج جس درد، تکلیف اور خوفناک بحران سے گزر رہی ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو طاقتیں خود کو انسانی حقوق کی علمبردار قرار دیتی ہیں، انہوں نے ہی انسانیت کو خون میں نہلا دیا، کم سن بچوں کو کچلا، اسپتالوں، عبادت گاہوں، بازاروں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ سامراجی اور صہیونی طاقتوں کی جانب سے انسانیت کے پردے میں کی جانے والی کارروائیوں کے باعث دنیا کے کئی خطے آگ اور خون کا منظر پیش کررہے ہیں، جبکہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر مؤثر عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2008 سے ہر سال یہ دن انسانی خدمات انجام دینے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور مشکلات میں گھرے انسانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے منایا جاتا ہے، لیکن افسوس کہ گزشتہ صدی سے جاری ظلم و جبر اکیسویں صدی کی پہلی 26 برسوں میں اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔

چیئرمین شیعہ علماء کونسل پاکستان نے کہا کہ اب اقوام متحدہ کو خود اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ انسانی اقدار کے تحفظ اور انسانی حقوق کی فراہمی کے لیے اس نے عملی طور پر کیا اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ فلسطین، کشمیر، افغانستان، شام، لبنان، لیبیا، عراق، صومالیہ اور دیگر ممالک کے عوام پر ایسا کون سا ظلم ہے جو نہیں ڈھایا گیا؟ ایران کے خلاف کس طرح جارحیت مسلط کی گئی اور آج بھی سامراجی و صہیونی اتحاد دنیا پر ظلم کی یہ تاریک رات مسلط کیے ہوئے ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے خبردار کیا کہ اگر ظلم کا ہاتھ نہ روکا گیا تو دنیا میں امن، انسانیت اور رواداری صرف الفاظ اور کتابوں کے صفحات تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha